اتوار 12 جولائی 2026 - 13:26
شہید رہبر: ایک شخص نہیں، ایک مکتب

حوزہ/ قاتل اس حقیقت کو نہ سمجھ سکا کہ بعض شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں، بلکہ ایک مکتب، ایک فکر اور ایک زندہ نظریہ ہوتی ہیں۔ انہیں قتل نہیں کیا جا سکتا؛ انہیں صرف شہادت عطا کی جا سکتی ہے۔ جسم مٹی میں اتر جاتے ہیں، مگر نظریات دلوں میں گھر بنا لیتے ہیں اور دلوں میں بسنے والی چیزیں کبھی دفن نہیں ہوتیں۔

تحریر: مولانا غلام شبر

حوزہ نیوز ایجنسی|

شبِ جمعہ، تقریباً ایک بج کر بیس منٹ پر ہمارے شہید رہبر کو سپردِ خاک کر دیا گیا۔ مٹی نے ایک جسدِ خاکی کو اپنی آغوش میں لے لیا، مگر کچھ حقیقتیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں نہ زمین اپنے اندر سمیٹ سکتی ہے، نہ زمانہ فراموش کر سکتا ہے، اور نہ قاتل کے بم دھماکے انہیں مٹا سکتے ہیں۔ بعض شخصیات اپنی حیات میں رہبر ہوتی ہیں، لیکن جب جامِ شہادت نوش کرتی ہیں تو محض ایک فرد نہیں رہتیں، بلکہ تاریخ کا دھارا بن جاتی ہیں۔

ظالم نے گمان کیا تھا کہ ایک فرد کو شہید کرکے وہ پوری قوم کے حوصلے پست کر دے گا، ایک قیادت کو مٹا کر ایک ملت کو منتشر کر دے گا، اور اپنے شیطانی عزائم کی تکمیل کی راہ ہموار کر لے گا۔ اسے یقین تھا کہ رہبر کے بغیر مزاحمت دم توڑ دے گی، امید کے چراغ بجھ جائیں گے اور اس کے مذموم سیاسی منصوبے حقیقت کا روپ دھار لیں گے۔ لیکن تاریخ نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ظلم کی طاقت صرف جسموں کو مٹا سکتی ہے، جبکہ حق کی اصل قوت افکار، ایمان اور نظریات میں پنہاں ہوتی ہے۔ جسم فنا ہو سکتے ہیں، مگر نظریات کبھی قتل نہیں کیے جا سکتے؛ رہنما رخصت ہو سکتے ہیں، مگر ان کا پیغام زندہ رہتا ہے، اور یہی پیغام قوموں کے عزم کو نئی زندگی عطا کرتا ہے۔

قاتل اس حقیقت کو نہ سمجھ سکا کہ بعض شخصیات محض افراد نہیں ہوتیں، بلکہ ایک مکتب، ایک فکر اور ایک زندہ نظریہ ہوتی ہیں۔ انہیں قتل نہیں کیا جا سکتا؛ انہیں صرف شہادت عطا کی جا سکتی ہے۔ جسم مٹی میں اتر جاتے ہیں، مگر نظریات دلوں میں گھر بنا لیتے ہیں اور دلوں میں بسنے والی چیزیں کبھی دفن نہیں ہوتیں۔

شہادت کے بعد دنیا نے ایک عجیب منظر دیکھا۔ انسان اپنی بہت سی نعمتوں کی قدر اس وقت تک پوری طرح نہیں جانتا جب تک وہ اس کے پاس ہوتی ہیں، لیکن جب وہ نعمت چھن جاتی ہے تو اس کی عظمت، اس کی ضرورت اور اس کی قیمت زہن و دل و دماغ پر پوری شدت کے ساتھ آشکار ہوتی ہے۔ ہمارے شہید رہبر کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ وہ اپنی زندگی میں بھی محبوب تھے، لیکن شہادت نے ان کی محبوبیت کو ایک نئی وسعت عطا کر دی۔

جو انہیں صرف ایک سیاسی یا مذہبی رہنما سمجھتے تھے، وہ ان کے کردار کی عظمت کے معترف ہو گئے۔ جو ان کی فکر سے پوری طرح آشنا نہ تھے، وہ ان کے افکار کو سمجھنے لگے۔ جو خاموش تھے، وہ بول اٹھے، اور جو دور تھے، وہ قریب آ گئے۔ حتیٰ کہ بہت سے ایسے افراد بھی، جو پہلے ان کے حلقۂ ارادت میں شامل نہ تھے، ان کی خدمات اور بصیرت کے سامنے سرِ تعظیم خم کرنے لگے۔ گویا شہادت نے ان کی شخصیت کے وہ پہلو آشکار کر دیے جنہیں زندگی میں بہت سے لوگ پوری طرح نہ دیکھ سکے تھے۔

ظالم نے قتل کیا، مگر محبت بڑھ گئی۔ اس نے خاموش کرنا چاہا، مگر آواز پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہو گئی۔ اس نے خوف پھیلانا چاہا، مگر عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا۔ اس نے ایک رہبر کو مٹانے کی کوشش کی، مگر ایک مکتب کو پوری دنیا میں متعارف کرا دیا۔

یہ تاریخ کا وہ اٹل اصول ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ فرعون نے موسیٰؑ کے چراغِ ہدایت کو بجھانا چاہا، مگر موسویت کی روشنی اور زیادہ پھیل گئی۔ نمرود نے ابراہیمؑ کو آگ کے سپرد کیا، مگر ابراہیمی فکر صدیوں تک انسانیت کی رہنمائی کرتی رہی۔ یزید نے کربلا میں یہ گمان کیا تھا کہ حق کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی، مگر اسی مقدس خون نے حق و باطل کے درمیان ایک ایسی ابدی لکیر کھینچ دی جو قیامت تک مٹ نہیں سکتی۔ آج تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا ہے؛ ایک شہادت نے ایک نئی بیداری کو جنم دیا، ایک چراغ بجھا تو ہزاروں چراغ روشن ہو گئے، اور یہ حقیقت پھر آشکار ہوئی کہ نظریات کو تلواروں سے نہیں، بلکہ ایمان اور شعور سے زندگی ملتی ہے۔

اگر وہ صرف ایک فرد ہوتے تو ان کی شہادت کے ساتھ ان کا اثر بھی ختم ہو جاتا، لیکن حقیقت اس کے برعکس نکلی۔ ان کی جدائی نے ان کی فکر کو پہلے سے زیادہ زندہ کر دیا، ان کے نام کو پہلے سے زیادہ معتبر بنا دیا اور ان کے مشن کو پہلے سے زیادہ مضبوط کر دیا۔ یہی فرق ہوتا ہے ایک شخص اور ایک مکتب میں۔ شخص اپنی زندگی تک محدود رہتا ہے، مگر مکتب اپنی زندگی کے بعد شروع ہوتا ہے۔

آج اگرچہ ہمارے شہید رہبر جسمانی طور پر ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن ان کی فکر زندہ ہے، ان کا پیغام زندہ ہے، ان کی استقامت زندہ ہے، اور ان کا مشن پہلے سے کہیں زیادہ قوت کے ساتھ زندہ ہے۔ ان کی شہادت نے ہمیں غم ضرور دیا ہے، لیکن اس غم کے ساتھ ایک عظیم ذمہ داری بھی ہمارے سپرد کر دی ہے؛ یہ ذمہ داری کہ ہم اس مکتب کے امین بنیں، اس فکر کے محافظ بنیں اور اس پرچم کو سربلند رکھیں جسے انہوں نے اپنی پوری زندگی اور اپنے پاکیزہ خون سے رفعت بخشی ہے۔
شہید رہبر! آپ کا جسدِ خاکی ضرور مٹی کی آغوش میں اتر گیا ہے، لیکن آپ کی فکر ہماری رگوں میں دوڑ رہی ہے، آپ کی آواز ہمارے ضمیر میں گونج رہی ہے اور آپ کا نام آئندہ نسلوں کے لیے عزم، بصیرت، استقامت اور عزت کا عنوان بن چکا ہے۔

بارِ الٰہا! اپنے اس بندۂ مخلص، اس شہیدِ راہِ حق پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرما، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرما، ان کی قربانی کو اسلام اور امتِ مسلمہ کی عزت و بیداری کا سرچشمہ بنا، اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم ان کے مکتب، ان کی فکر اور ان کے مشن کے سچے وارث ثابت ہوں۔ آمین یا رب العالمین۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha